ہاتھرس،8؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) اترپردیش کے ضلع ہاتھرس میں دلت لڑکی کے ساتھ پیش آیا عصمت دری و قتل معاملہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں متاثرہ کنبہ اور ملزمین کے اہل خانہ ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ تو وہیں علاقے میں ذات کی بنیاد پر منافرت میں اضافے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ متاثرہ کا تعلق دلت سماج سے ہے تو گرفتار 4 ملزمین کا تعلق اعلی ذات سے ہے۔
ریاستی حکومت کے دعوی کے مطابق ہاتھرس واقعہ کے پیچھے کچھ شرپسند عناصر کا ہاتھ ہے جو ذات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو لڑا کر فساد کرانا چاہتے ہیں، تو وہیں حکومت نے ماریشش اور دیگر بیرونی ممالک سے 100کروڑ روپئے سے زیادہ کی فنڈنگ کا دعوی کر کے معاملے کو مزید حیران کن کردیا ہے۔ یوپی پولیس نے اس ضمن میں سازش کرنے کے الزام میں پی ایف آئی کے چار اراکین کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک کا تعلق کیرالہ سے ہے، وہیں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ پورے معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔ سی بی آئی نے پہلے ہی پورے معاملے کی جانچ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ نیز یوپی حکومت کی جانب سے تشکیل شدہ ایس آئی ٹی کی جانچ کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے۔
تاہم خطے میں ذات کی بنیاد پر فساد کے پھوٹ پڑنے کے شبہ کے بعد یوپی حکومت نے اے ڈی جی سطح کے دو افسران کو گزشتہ رات لکھنؤ سے ہاتھرس کے لئے روانہ کیا۔ تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حالات سے نپٹا جاسکے۔ دو سینئر آئی پی ایس افسر راجیو کرشنا اور سلب ماتھر علی گڑھ اور ہاتھرس میں اگلے ایک ہفتے تک مہم پر رہیں گے تاکہ علاقے میں کسی بھی قسم ممکنہ ناخوشگوار حالات پر قابو حاصل کیا جاسکے۔ دونوں افسران عوام اور پنچایتوں سے ملنے کے بعد اپنی رپورٹ ڈی جی پی کو سونپیں گے۔
وہیں دوسری جانب متاثرہ کنبے کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے اور ان کے ارد گرد سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں۔ بلگاری گاؤں میں ایک مجسٹریٹ کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ متاثرہ کنبے کو تین زمرے کی سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔ ملحقہ گاؤں کی پنچایتوں نے ایک قرار داد پاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں گرفتار کیے گئے 4 نوجوان معصوم ہیں اور انہیں متاثرہ کنبے کے ذریعہ پھنسایا گیا ہے۔پنچایتوں نے اپنی قرار دادوں میں سی بی آئی جانچ اور نارکو ٹیسٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرہ کنبہ سی بی آئی جانچ اور نارکوٹیسٹ کی مخالفت کر رہاعلاوہ ازیں انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ میں ملحقہ گاؤوں کے اعلی ذات کے افراد سے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے ضمن میں عرضی داخل کی ہے۔ وہیں زبردستی متاثرہ کی آخری رسومات کی ادائیگی کے سلسلے میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں ایک دوسرا کیس 12اکتوبر کو زیر سماعت ہے۔
تاہم جمعرات کو اس پورے معاملے میں اک نیا موڑ اس وقت آگیا جب ملزمین نے علی گڑھ جیل سے ہاتھرس کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے نام ایک خط لکھا ہے۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔ خط جو کہ کلیدی ملزم سندیپ کی جانب سے لکھا گیا ہے جس میں چاروں ملزمین کے انگوٹھے لگائے گئے ہیں، اس میں درج ہے کہ 'ہم ایس سی ایکٹ کی دفعات 307،354 اور 3(2)5 کے تحت درج کیے گئی ایک ایف آئی آر کے ضمن میں جیل میں قید ہیں۔ دوسرے تین ملزمین لوکش، روی اور رامو ہیں۔ تمام سندیپ کے رشتہ دار ہیں۔
خط میں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں متاثرہ کنبے کے ذریعہ پھنسایا گیا ہے۔سندیپ نے خط میں دعوی کیا ہے کہ متاثرہ لڑکی سے اس کی دوستی تھی اور وہ عموماً ایک دوسرے سے ملاقات و فون پر بات کیا کرتے تھے۔ اس نے لکھا ہے کہ حادثے کے دن اس نے لڑکی کو فون کر کے کھیت میں بلایا لیکن وہ اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ آئی۔ سندیپ نے کہا کہ اس کے فوراً بعد وہ وہاں سے چلا گیا اس کے بعد ہ اپنے والد کے ساتھ گایوں کو چارہ دینے میں مشغول ہوگیا۔ اس کے بعد اسے پتہ چلا کہ لڑکی کے بھائی نے اسے بری طرح سے مارا ہے جس کی وجہ سے اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اس کی موت ہوگئی۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق متاثرہ کنبے کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے فون سے 143 دنوں (اکتوبر تا مارچ 2019) کے درمیان سندیپ سے تقریباً 104مرتبہ بات ہوئی ہے۔ لیکن متاثرہ کے بھائی نے پولیس کے اس دعوی کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ گھر میں صرف ایک موبائل ہے جو کہ والد کے پاس رہتا ہے۔ اس نے الزام لگایا کہ ملزمین کو بچانے کے لئے یہ پولیس کی ایک سازش ہے۔
وہیں یو پی کے سابق ڈی جی پی برج لال نے جمعرات کو سوال کیا کہ آخر متاثرہ کنبہ سی بی آئی جانچ اور نارکوٹیسٹ کی مخالفت کیوں کر رہا ہے۔ دلت آئی پی ایس افسر نے کہا کہ اگر دلت فیملی کو اعلی ذات کے افراد کے ذریعہ ہراساں کیا گیا ہے، ان کے ذریعہ لڑکی کا قتل کیا گیا ہے تو پھر وہ نارکوٹیسٹ سے کیوں خائف ہیں اور سی بی آئی جانچ سے کیوں کترا رہے ہیں۔